Sunday, November 1, 2015

سیب کے 7 صحتمندانہ فوائد

دن کا ایک سیب روزانہ آپکو ڈاکٹر سے دور رکھتا ہے
لیکن کیوں اور کیسے ؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سیب خراب کولیسٹرول کو کم کرتا ہے ۔

1۔    سیب کی غذائی اہمیت

مختلف تحقیقات کے مطابق سیب غذائیت سے بھر پور اور محفوظ پھل ہے یہ وٹامن سے بھرے ہوتے ہیں اور اس میں عمل تکسیر کو روکنے کی صلاحت ہوتی ہے یہ ہمارے جسم کی حفاظت کرتے ہیں۔ مختلف انفیکشن اور بیماریوں کی جڑپیدا ہونے سے روکتے ہیں مذید اس میں غذائی اعتبار سے وٹامن B کمپلکس بھی موجود ہوتا ہے یہ وٹامنز (رائبو فلیون، تھائی مین اور وٹامن B-6) بہت لازمی ہیں۔ ہماری ذہنی صحت اور جسمانی صحت کیلئے اس سے خون میں اضافہ ہوا ہے۔ ساتھ یہ فائبر سے بھرے ہوتے ہیں۔ سیب جسم میں بڑھتے ہوئے برے کولیسٹرول کو روکتا ہے۔ کیلشئم ، پوٹاشیئم اور فاسفورس اس کے دوسرے اجزاء میں شامل ہے۔

2۔    سیب کس کے لیئے اچھا ہے ؟

سیب کے ذریعے دماغی صحت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ یہ پھل عمل تکسیر کو روکنے کے عمل پر مشتمل ہوتا ہے۔ Quercetin کہتے ہیں جو کہ اعصاب کی سوجن کو دور کرتا ہے اور موت کی طرف بڑھنے والے خلیوں کو بننے سے روکتا ہے۔ یہ اعصابی خلیات کی حفاظت کرتا ہے جو ماحولیاتی آلودگی کے سبب ہوئی ہیں سیب ساتھ ساتھ دماغ کی بیماری الزائمر سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
سیب کی مدد سے برے کولیسٹرول ختم کرنا
سیب کو اکثر معجزاتی پھل کہا جاتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو لوگ باقاعدگی سے سیب کھاتے ہیں ان میں خراب کولیسٹرول کافی کم ہوتا ہے۔ ان لوگوں کے مقابلے میں جو روزانہ سیب نہیں کھاتے ۔ برے کولیسٹرول کم ہونے سے اور اچھا کولیسٹرول سے دل کے مرض کے خطرے کی بلند سطح میں کمی واقعی ہوئی ہے۔

3۔    سیب کے ساتھ ہرقسم کا کینسر روکنا

سیب میں اور کسی بھی دوسرے پھلوں میں اس سے صحت کی صنعت میں بہت زیادہ نفع بخش ثابت ہوئی ہے ۔ تحقیق کے مطابق سیب کی کھپت اور لبلبے کے کینسر میں 23% کی واقع ہوئی ہے سیب کے چھلکے میں ٹریٹرپائینوئڈ کثرت سے پایا جاتا ہے جو کیسر کے ایک اور گروپ، جگر ، بڑی آنت اور چھاتی میں کینسر کے خلیات کے خلاف قوی سرگرم رہتا ہے۔

4۔    سیب صحت مند دل کیلئے

ایک وسیع تحقیق کے مطابق جسم سے سیب کا ایک اعلٰی فائبر کا تعلق ہے ۔ اعلی فائبر کا زیادہ استعمال کولیسٹرول کو کم کرتا ہے دل کی شریانوں کی بیماری میں مبتلا ہونے سے روکتا ہے جس سے کسی بھی شخص کی صحت خراب ہوسکتی ہے۔ سیب میں فینولک کمپاؤنڈ پایا جاتا ہے ۔ جو کولیسٹرول کو بڑھنے سے روکتا ہے۔ یہ صحت مند خون کے بہاؤ کو روکتا ہے۔

5۔    پتھری کی روک تھام سیب کے ساتھ

سیب میں موجود فائبر کی اعلیٰ مقدار بھی پتھری کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب پتھری ہوتی ہے تو کولیسٹرول کی سطح کو مائع کی شکل میں رہنے کے لئے کافی زیادہ سطح پر اُٹھانا پڑتا ہے۔ پتھری زیادہ موٹے لوگوں میں دیکھی جاتی ہے۔ سیب کے ذریعے اس کی آسانی سے روک تھام کی جاسکتی ہے۔

6۔    سیب کے ذریعے وزن بڑھنے کی روک تھام

دنیا کی بہت سی بیماریاں موٹاپے کی وجہ سے ہیں۔ جن میں اسٹروک ، دل کی شریانوں کی بیماری، اور رات کو سوتے وقت میں سانس لینے کا عمل۔ منسلک رہتے ہیں۔بڑھتے وزن کو کنٹرول کرنے کیلے وقت کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں نے فائبر کی مقدار کو کافی اہمت دی ہے۔ سیب فائبر سے لبالب بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ بغیر کیلوریز کے آپ کو فائبر مہیا کریگا۔

7۔    سیب کے ساتھ مضر اثرات دور کرنا

ہم مستقل طور پر زہر کھا رہے ہیں جنک فوڈ اور کولڈرنک کے ذریعے ہمارا جگر اس کا ذمہ دار ہے۔ کہ اس سے ان ٹوکسن خالی کرنا ہے۔ جو ٹوکسن مشروبات لوگ آجکل استعمال کررہے ہیں وہ فائدہ سے زیادہ نقصان پہنچارہے ہیں۔ آپ کبھی سیب پر شک نہیں کرسکتے سیب آپ کے جگر کو تمام ذہریلے مادوں سے پاک رکھنے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔

آلو اور شکر قندی کے درمیان فرق

حسب معمول آلو، اور من موہنا آلو پر باورچی خان می اہم مقام رکھتا ہے چونکہ یہ روائتی اور غیر روائتی پکوانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف میٹھا آلو، پاکستان میں شکرقندی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جائزے کے مطابق اس کے صحت مند فوائد کی وجہ سے اسے شاندار سپر فوڈ کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ موٹار کرنے کیلئے بدنام بھی ہے۔ آسمان کو چھوتی Glycemic Index کی وجہ سے دونوں اقسام مزیدار، صحت مند اور غذائیت سے بھرپور ہیں اور ان سے لطف اٹھائیے ، آئیں دیکھتے ہیں۔

شکر قندی اور آلو دونوں میں کیا فرق ہے ؟

عام آدمی کی اصطلاح میں، وہ دونوں کو آلو سمجھتے ہیں ان دونوں کی ابتداء وسچی ور جنوبی امریکہ سے ہوئی۔ بحر حال، جب ہم اس کی جڑ میں جاتے ہیں نباتاتی حیثیت سے وہ مکمل طور پر الگ الگ ہیں تکنیکی لحاظ سے باقاعدہ ایک خاندان سے تعلق رکتھے ہیں جب کہ شکر قندی ثانطہلطئلاچعاع خاندانسے تعلق رکھتی ہے۔ Solaraceae خاندان سے آلو ، ٹماٹر، بینگن اور مرچ کا تعلق ہے اس خاندان میں پودوں کو زہریلے مواد سے پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ سب Solarine کے ن ام سے جانے جاتے ہیں یاد رکھیں اس گروپ کے آنے والے پودوں کے پتے تنوں پر صرف مت کریں آلو پر بھی صرف نہ کریں جو ہرہے رنگ کی طرف چلا گیا ہو۔ لیکن روز مرہ آلو کو چھوڑ کر اس سے مشابہت شکر قندی کے برعکس ہے۔ یہ انتہائی غذائیت سے بھری پڑی ہے انہیں کھایا جاسکتا ہے۔ 
آلوؤں میں بھی ان کے نشاستہ میں اختلاف ہے وہ ہضم کی طریقے کی نشاندہی کرتا ہے آلو جب پلکتا ہے تو کیسے ردعمل کرتا ہے۔ وہ جس کی بناوٹ پھولی پھولی نرم سی ہوتی ہے جب وہ پکتے ہیں آلو عام طور پر آٹے جیسا ملائم کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ بیکنگ اور کچومر کیلئے مثالی ہے۔ عام طور پر پاکستان میں آلو کی جو قسم پائی جاتی ہے۔ وہ نشاستے سے لبالب بھرے پڑے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر شکر نشاستہ سے۔ Waxy (مومی) آلو نامی ایک قسم ہے جس میں نشاستہ کا اعلیٰ مقدار ہے جو اس کو یکساں چپچپا رکھتی ہے۔ اس کی وجہ سے ایہ ابالنے کیلئے زیادہ مثاالی ہیں اور جلدی ہضم ہوجاتے ہیں خاص طور پر جب پکتے ہیں اور ٹھندے ہوجاتے ہیں اسی طرح تھوڑی کمی پیشی شکرقندی میں بھی دیکھی جاتی ہے رنگ کا فرق، نشاستہ کا مواد اور زور ہضم وغیرہ۔

کاربوہائیڈریٹ کے بارے میں تشویش

کاربوہائیڈریٹ کے ہمارے جسم کی بنیادی ضروریات ہیں۔ زندہ عضو اور خلیوں میں مجموعی تبدیلی کے کیلئے توانائی کا اچھا ذریعے پیش کرتے ہیں ۔ دونوں آلو اور شکرقندی کاربوہائیڈریٹ کے خزانے ہیں۔ لیکن Atkinsکے غلبہ اور دوسرے نشاستہ دار غذا کی وجہ سے کاربوہائیڈریٹ کو بری شہرت ملی ہے تو آلوکو اکثر بہت زیادہ نشاستہ دار ہونے کی خاصیت حاصل ہے۔ اور اسے مینیو سے دور کردیا جاتا ہے زیادہ تر اوقات میں ان کو پلیچھے ہٹادینا اصل مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کی کتنی مقدار استعمال کی جارہی ہے ۔ دونوں آلو اور شکر قندی کی قسموں میں بھرپور اور ایسا غآئی مواد بھراہوتا ہے جو کاربوہائیڈریٹ مواد کو بڑھاتا ہے تو آگے پڑھیں نہیں کھائیں لیکن کسی وجہ سے !

شکر قندی زیادہ فائدے مند ہے یا آلو ؟

اس داستان کی ابتداء عام آلو کی بڑھنے والی کھپت، آلو کے چپس اور فرنچ فرائز کی صورت میں بڑھی جو صحت کیلئے نقصان دہ اور موٹاپے سے منسلک ہوتے ہیں کیا سائنس ثابت کرتی ہے کہ ان دونوں اقسام کے بارے میں کہ نہ یہ نہ وہ بہتر ہے دوسرے کے مقابلے میں اور ان دونوں میں غذائی قلت پوری کرنے والے فرق مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر شکر قندی وٹامن A اور فائبر ریشہ سے مالا مال ہیں جب کہ روزمرہ میں استعمال ہونے والا آلو میں معدنیات کے اچھے ذرائع ہیں۔ جیسے پوٹاشیئم، میگنیشئم اور آئرن ۔ گو کہ یہ سچ ہے کہ شکر قندی میں گلیسمک انڈیکس ہے عام آلو کے مقابلے میں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عام آلو بغیر سائیڈ ٹوپنگ کے کھانا مشکل ہے جو موٹاپا بڑھانے کی اعانت کرتا ہے جو کہ آلو بذات خود بھی کرتا ہے۔
اختتام بس اسی بات پر کیا جاتا ہے کہ جو چیز زیادہ اہمیت رکھتی ہے ترتیب اور مقدار وہ ان دونوں میں استعمال کرتے ہیں اور یہ آلو کی قسم نہیں ہے

صحت مند کھانا : جنک فوڈ کی طلب کو روکنے کے 7 طریقے

یہ سادہ ہے۔ ان غذاؤں میں مکمل طور پر صحت کے پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے بنائے جاتے ہیں آپ کو بہت اطمینان دیتے ہیں۔ جب اسے کھایا جاتا ہے تو صحت کے پہلو کو مکمل طور پر نظر اندا کردیتے ہیں۔
جب آپ اپنے آپ کو راضی کرتے ہیں فرئیزر اور پنیر برگر کی فرصت کیلئے قصوروار ہیں۔ آپ اپنے وزن اور بگڑتی ہوئے صحت کے بارے میں فکر مند ہوسکتے ہیں لیکن یہ اس طلب کو روکنے کیلے کافی نہیں ہے۔
کھانے کی اشیاء طلب کے شیطانی چکر کو آپ ختم کرنا چاہتے ہیں اور وزن کی ذیادش کو  یہاں زیادہ صحت مند کھانے کے انتخاب کو بنانے کے کچھ طریقے ہیں۔

1    5 جزوتر کی اصول کی مشق

جب آپ کریا نہ کا سامان خریدتے ہیں اور روز مرہ کا ناشتہ تو پانچ اجزاء کے اُصول کی مشق کریں اگر یہاں پانچ اجزاء سے زیادہ ہے۔ تو یہ کھانے کے عمل کیلئے خطرے کا نشان ہے چنانچہ اسے مت خریدیں اگرچہ آپ کیلئے ضروری ہے تو اس کے علاج کی زیادہ فکر کریں روزانہ چبانے کا مقابلے میں۔اس کو نظر اندا کرنے کیلئے تحریک چلائیں جیسے ذائقہ دار چپس اور بنی بنائی کوکیز۔ یہ اصول بہترین کام کرتا ہے۔

 2    اپنے معمولات کو توڑیں

پرانی عادت کو توڑنے میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں ۔ اگرآپ 3 بجے کے ساتھ ہی ناشتے کی طرف کھینچنے کے عادی ہیں تو اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں اس طلب سے پیچھا چھڑانے کا آسان راستہ ہے کہ ٹہلنے کی روایات شروع کریں یہ آپ کے دماغ میں آنیوالے تمام کھانوں کو آپ کے دماغ سے اڑا سکتا ہے

3    صحت مند سامان کو کارآمد رکھیں۔

اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے اطراف میں صحت مند ناشتے ہوں تو آپ کو کسی چیز کی طلب نہیں ہوگی اسے فرج کے سامنے والے حصے میں پھلوں کے پیالے کا ڈھیر لگا دیں۔ اور دوسری صحت مند چیزیں ۔تو جب بھی آپ فرج کھولیں گے تو یہ آپ کی توجہ جلد سے جلد اپنی طرف کھینچ لیں گے ۔ (دوسرے غیر صحت مند کھانے کی اشیاء سے بچنے کیلئے ایک بہترین ناشتہ ہے) اس میں کیلوریز کی بھی بڑی مقدار ہوتی ہے۔

4    جانتے ہیں کہ آپ کے محرک کھانے کیا ہیں ؟

چاہے آپ لال ویلویٹ کیک یا چپس کا تازہ کھلا ہوا تھیلا کھانے کے موڈ میں ہوتے ہیں تو جانتے ہیں یہ لگن فوڈ کا غل غپاڑہ بل کھاتا ہوا آپ کو ایک مضبوط محرک بھیجتا ہے۔ ایک بار اس بات کی نشاندہی کریں کہ آپ کے محرک کھانے کیا ہیں اپنے آدھے کام پر غور کریں آپ یہ جانتے نہیں یہ بہترین ہے آپ کے احاطے سے باہر رکھنے کیلئے اور اب تک بہتر ہے گھر سے باہر رکھنے کیلئے۔

 5    موٹاپے سے اپنے آپ کو باہر رکھیں

جنک فوڈ سے اپنے دماغ اور ہاتھوں کو دور رکھنے کیلئے ایک اور طریقہ ہے یہ مزید اس بارے میں جانیئے کہ وہ اس کو کیسے بناتے اور عمل درآمد کرتے ہیں۔ زیادہ عملدرآمد کرنے والی اشیاء چپس، مشروبات وغیرہ صحت کی ناقص حالت میں بنائے جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو مجموعی طور پر موٹاپے سے دور رکھنے کیلئے آپ یقینی طور پر اس کے کھانے سے پہلے دو مرتبہ سوچیں گے۔

6    صحت مند کھانے کے ساتھ اپنا علاج کریں

کیا آپ میٹھے کے شوقین ہیں ؟ کوئی تشویش نہیں آپ کی میٹھے کی طلب ہونے سے پہلے اس بات کو یقنی بنائیں کہ اپنے ذائقے کیلئے سکون بخش چیز رکھی ہو کچھ مزیدار اور آسان میٹھے پھلوں سے بنے۔ فرج میں کچھ لال انگور رکھیں یا اس سے بہتر اپنے پسندیدہ پھلوں سے پھلو کا ایک پیالہ بنائیں۔

7    تین رنگوں کیلئے ہدف

کیا آپ پسند نہیں کرتے کہ یہ بہتر ہے کہ آپ کے پاس آپ کی پلیٹ میں مختلف رنگوں کی اقسام ہوں بجائے ایک کے۔ اکثر لوگ اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ مختلف اشیاء تین مختلف رنگوں کی ان کی پلیٹ میں ہوں جب بھی کھائیں اس بات کو یقنی بنائیں کہ تین رنگوں سے زیادہ صحت مند کھانے اپنی پلیٹ میں نہ ملائیں۔ ناشتے میں کینڈی بار کھانے کے بجائے کھیر، میوے، پھلوں کے ٹکڑے اور ڈارک چاکلیٹ کا ایک چھوٹا ٹکڑا ڈال دیں۔

شہد کے 10ٖٖٖاہم ترین فوائد

بابائے ادویات اورنامور یونانی طبیب و فلسفی بقراط کا کہنا ہے،” غذا کو دوا اور دوا کو غذا بناؤ”۔
جب آپ شہد کے فوائد کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں تو آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بقراط کا اشارہ اسی لیس دار میٹھے سیال کی طرف ہے۔
قدرتی طور پر فرکٹوس اور گلوکوس، وٹامن، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھروپور شہد، ماہرین غذائیت کی پسندیدہ غذا ہے۔ شہد کئی اقسام کی بیماریوں سے بچاؤ میں مفید ہے۔ ماضی میں بھی اسے لاتعداد بیماریوں اور جسمانی و ذہنی تکالیفکے لیے دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جب کہ اس کا ذائقہ اور مزہ بھی اس کی پسندیدگی اور مقبولیت کی ایک اہم وجہ ہے۔
جسمانی طاقت اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے شہد کے 10حیرت انگیز فوائد مندرجہ ذیل ہیں:
خوبصورت اور دلکش جلد
شہد کئی خواتین کی چمکتی اور صحت مند جلد کا راز ہے۔ اسے قدرتی موئسچرائزر، ایکسفولیئنٹ اور اینٹی ایجنگ ایجنٹ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ شہد کو کئی جلدی نگہداشت کی مصنوعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ شہد کے استعمال سے جلد صاف شفاف، ملائم اور چمکدار ہوجاتی ہے۔ یہ سورج کی خطرناک UVشعاعوں سے جلد کی حفاظت کرتا ہے اور خشک اور بے رونق جلد کو تازہ دم کردیتا ہے۔
کیل اور مہاسوں سے بچاؤ
کیل مہاسے محض چہرے پر ہی نہیں بلکہ جسم کے دیگر حساس حصوں پہ بھی نکل آتے ہیں۔ ان سے بچنے کے لیے شہد کااستعمال بے انتہا مفید ہے۔ شہد جلد کے تباہ شدہ خلیے اوران میں موجود میل کچیل کو ختم کرکے جلد کو ترو تازہ کرتا ہے۔ شہد ایک زبردست اینٹی سیپٹک ہے جو جلد کوآلودگی سے بھی محفوظ رکھتا ہے جو کہ کیل مہاسوں کی ایک اہم وجہ ہے۔
مظبوط اور صحت مند بال
موسم کے باعث روکھے اور بے رونق ہوجانے والے بالوں کے لیے شہد ایک بہترین غذا اور علاج ہے۔ یہ خشکی دور کرتاہے اور بالوں میں نمی برقرار رکھتی ہے۔ اکثر بال دھونے کے بعد خشک ہوجاتے ہیں لیکن شہد کا استعمال انہیں نرم و ملائم رکھتا ہے۔ شہد سے بالوں کا رنگ بھی زیادہ عرصے تک برقرار رہتا ہے۔ سفید اور گرتے بالوں کے لیے شہد کا استعمال بے انتہا فائدے مند ہے۔ جو لوگ بالوں پر رنگ کرتے ہیں ان کے لیے بھی شہد کا استعمال بے حد ضروری ہے۔ یہ نقصان دہ کیمیکل کا مقابلہ کرکے بالوں کو ان کی اصل شکل میں برقرار رکھتا ہے۔
چمکدار آنکھیں 
حیرت انگیز طور پر مصریوں کا یہ ماننا تھا کہ شہد کے ذریعے آنکھوں کی کئی بیماریوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ آنکھوں پر شہد لگانے سے نہ صرف آنکھیں محفوظ رہتی ہیں بلکہ بینائی بھی تیز ہوتی ہے۔ کمزور بینائی رکھنے والے لوگوں کے لیے بھی شہد انتہائی مفید ہے۔ اس سے آنکھوں کا انفیکشن، آنکھوں کا لال ہوجانا اورآشوب چشم جیسی تکالیف پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔ ذیابطیس کے مریضوں کوموتیا اور گلوکوما جیسے امراض سے بچنے کے لیے شہد کا استعمال کرنا چاہیے۔
ذیابطیس پہ قابو پانے کے لیے
شہد قدرتی شکر حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے اس لیے اسے سفید شکر کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ شہد نہ صرف جسم کو توانا رکھتا ہے بلکہ یہ سفید شکر کی طرح نقصان دہ بھی نہیں ہے۔ البتہ ذیابطیس کے مریضوں کو اعتدال میں رہ کر شہد کا استعمال کرنا چاہیے اور اسے استعمال کرتے ہوئے اپنے شوگر لیول کو مانیٹر کرتے رہنا چاہیے۔
امراض قلب کے خطرات کو کم کرتا ہے 
شہد استعمال کرنے سے کولیسٹرول پر قابو رکھا جا سکتا ہے۔ شہد خون میں ایچ ڈی ایل یعنی گڈ کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے۔ شہد کے اند رموجود ایکس پیکٹورینٹ اور سوتھنگ جیسی خوبیا ں نظام تنفس کے انفیکشن سے بچاؤ کے لیے مفید ہیں۔ پانی میں شہد اور الائچی ڈال کر ابال لیں اور اسے روزانہ استعمال کریں۔ اس مکسچر کے استعمال سے کولیسٹرول 10فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
موٹاپا کم کرنے کے لیے 
یوں تو محض شہد کے استعمال سے موٹاپے پر قابو نہیں پایا جاسکتا اور اس کے لیے معتدل غذا، مناسب ورزش اور طرز زندگی کو بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔البتہ یہ ایک بہترین ڈیٹوکس ایجنٹ ہے جس سے وزن کم کرنے میں کافی حد تک مدد مل سکتی ہے۔ اس کے استعمال سے جگر کی صفائی ہوجاتی ہے اور جگر میں موجود غیر ضروری چربی بھی اپنے آپ ہی گھل جاتی ہے۔ اس سے نظام استحالہ بہتر ہوتا ہے اوریہ نظام ہاظمہ کے لیے بھی مفید ہے۔
نہار منہ شہد کا گرم پانی اور لیمبو کے ساتھ استعمال وزن کم کرنے لیے بے حد فائدے مند ہے۔ البتہ یاد رہے کہ ایک چمچ شہد میں 63کیلریز ہوتی ہیں اس لیے اسے اعتدال میں رہ کر ہی استعما ل کرنا چاہیے۔ البتہ یقینی طور پر شہد کو سفید شکر کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ شہد کا تھوڑی مقدر میں استعمال بھی چینی کمی کو پورا کردیتا ہے اور یہ نقصان د ہ بھی نہیں ہے۔ اسے میں چائے میں ڈا ل کر پینے سے نہ صرف چائے کا ذائقہ مزید اچھا ہوجا تا ہے بلکہ اس سے چائے کی افادیت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔
دافع جراثیم
شہد میں موجود وہ ہی جراثیم سے بچاؤ خصوصیات جس سے کی مہاسوں کو ختم کیا جاسکتا ہے اسے نظام قوت مدافعت بڑھانے کا ذریعہ بھی بناتی ہیں۔ شہد ایک اینٹی بیکٹریل اور اینٹی آکسیڈنٹ ہونے کے وجہ سے جسم کا دفائی مکانیزم مظبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔جس کے باعث شہد کا استعمال کرنے والے لوگ سردی، فلو اور ایلرجیز سے بچے رہتے ہیں۔
سینے اور گلے کا انفیکشن
سینے اور گلے کے انفیکشن سے بچاؤ کے لیے دو بڑے چمچ شہد کا سونے سے قبل استعمال انتہائی مفید ہے اس سے گلے کی سوزش کم ہوتی ہے اور اسے آرام پہنچتا ہے۔ ساتھ ہی اس سے نیند بھی اچھی آتی ہے۔ ایلرجی اور گلے کے انفیکشن سے بچاؤ کے لیے چائے میں شہد ڈال کرپینا چاہیے۔
بہترین اینٹی بیکٹریل
شہد کی ایک اہم خصوصیت اور افادیت یہ بھی ہے کہ اس سے زخم جلد بھر جاتا ہے۔ دودھ پلانے والی خواتینکے لیے شہد کا استعمال بہت مفید ہے اس کے استعمال سے چھاتی کے انفیکشن پر قابو پایا جاسکتا ہے اور یہ ایک بہترین پین کلر بھی ہے۔ دودھ پلانے والی خواتین شہد کے بطور دوا اور بطور مرہم استعمال سے ہر قسم کے بیکٹریاز سے خود کو اور اپنے بچے کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔
غرض یہ کہ انسان کے لیے شہد کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ پانی، چائے اور میٹھے کے ساتھ شہد کے روزانہ استعمال سے نہ صرف اس کا ذائقہ بڑھایا جاسکتا ہے بلکہ اس سے جسمانی و ذہنی توانائی بھی بڑھائی جاسکتی ہے۔

سردیوں کی سوغات کہلانے والے5رسیلے پھل

ہم میں سے زیادتر لوگوں کے لیے سردیوں کا مطلب ہے کافی کا گرم کپ، موٹے کمبل اور گرم گرم مونگ پھلیوں کا پیکٹ۔ البتہ سردیاں صرف تفریح کا سامان ہی نہیں ہوتیں بلکہ اپنے ساتھ سردی،زکام اور دیگر بیماریاں بھی لے کر آتی ہیں۔ جس کے بعد اینٹی باؤٹیکس اور اینٹی الرجی کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
اپنے مدافعاتی نظام کو مظبوط بنانے کے لیے موسم سرما میں آنے والے پھلوں کا استعمال آپ کو ان تمام بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ موسم سرما میں آنے والے پھل وٹامن اور معدنیات سے بھرپورہوتے ہیں۔ جس سے آپ کی قوت مدافعت مظبوط رہتی ہے۔ یہ چند انتہائی مفید اور صحت بخش پھلوں کی فہرست ہے جوکہ کسی بھی پھلوں کی مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہوتے ہیں:
انار
انار کے سرخ دانے نہ صرف دکھنے میں خوبصورت لگتے ہیں بلکہ یہ صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ہیں۔ شاید اسی لیے انارکو جنت کا پھل کہتے ہیں۔ انار سبز چائے سے تین گنا بہتر اینٹی آکسیڈینٹ ہے۔ اس کی کرشماتی غذائیت بریسٹ کینسر، گٹھیا اور امراض قلب جیسے مسائل سے بچاؤ میں بھی مفید ہے۔ انار میں وٹامن سی، کے، پوٹیشیم اور فولیٹ وآفر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔
انار کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ انار گداز اور گول ہونے چاہیے۔ انار کا وزن زیادہ ہونا چاہیے۔ انہیں فرج میں دو ماہ تک اسٹور کیا جا سکتا ہے۔
نارنجی
یہ رسیلا پھل سوزش کے لیے مفید ہے۔ یہ ایک بہترین اینٹی آکسیڈینٹ بھی ہے۔ اس میں وٹامن سی کے ساتھ ساتھ 170 فائیٹو کیمیکلزphytochemicals اور 60فلیوانائیڈflavanoids بھی موجود ہوتے ہیں جس کے باعث اسے سیب کی ہی طرح روزآنہ ایک بار ضرور کھانے کی تجویز دی جاتی ہے۔ نارنجی ہر قسم کے کیمنسر سے بچاتی ہے۔ اس میں موجود کولین choline، اچھی نیند، ذہنی قوت بڑھانے اور جسم کو مظبوط و توانا رکھنے کے لیے مفید ہے۔
نارنجی کی جلد کو ہلکا موٹامگر نرم ہونا چاہیے۔ نارنجیوں کو دو ہفتے تک ہی اسٹور کیا جا سکتا ہے۔
کھجور
مسلم ممالک میں کھجوروں کو بے حد اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہی ہے کہ یہ غذائیت کے اعتبار سے ایک بھر پور اور فائدہ مند پھل ہے۔ غذائیت کیلحاظسے ایک بیلنس پلیٹ میں جتنی طاقت ہوتی ہے ایک کھجور بھی جسم کو وہ ہی افادیت پہنچاتی ہے۔ اس میں کاربوہائیڈریٹ (فائبر)، پروٹین، وٹامنز غرض تمام تر غذائیت موجود ہوتی ہے۔ کھجور قبض، ڈائریا اور معدے کی دیگر بیماریوں یہاں تک کہ کینسر سے بچاؤ کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔ یہ آپ کے دل، دماغ اور تولیدی نظام کے لیے فائدہ مند ہے۔
کھجور خریدتے وقت یہ خیال رکھیں کہ کھجور چمکدار اور ایک رنگ کی ہوں اورٹوٹی ہوئی نہ ہوں۔ کھجوریں اتنی آسانی سے خراب نہیں ہوتیں اور انہیں فرج کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔
ناشپاتی
یہ ہلکا میٹھا اور رسیلا سبز اور زرد پھل فائبر اور وٹامن سی سے بھر پور ہوتا ہے۔ اس میں کاربوہائیڈریٹ کی وافر مقدار تیزی سے جسم کو انرجی پہنچاتی ہے۔ یہ موٹاپے، ذیابیطس اور ہائپر ٹینشن جیسے مسائل دور کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
اگر آپ کچی ناشپاتیاں لیتے ہیں تو انہیں ایک کاغذ کی تھیلی میں کسی ٹھنڈی صاف جگہ پر رکھیں۔ اگر پکا ہوا پھل خریدیں تو اسے فرج میں رکھنا ضروری ہے۔
کیوی
کیوی کی جلد بھورے رنگ کی ہوتی ہے۔ اس کی طبی و شفاء بخش خوبیوں کے باعث ماہرین اسے خاص اہمیت دیتے ہیں۔ اس میں غذائی ریشے یعنی فائبر کی اتنی مقدار پائی جاتی ہے جتنی کیلے، اناج کے دلیے یا پپیتے میں ہوتی ہے۔ اس میں خوردنی شکر کے ساتھ ساتھ، کیلشیم، فاسفورس اور پوٹاشیم بھی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔
کچے کیوی کو آپ چھ ہفتوں تک اسٹور کرسکتے ہیں۔
لہذا ان سردیوں اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ ان پھلوں کو فروٹ چاٹ، کاک ٹیل اور کھانے میں استعمال کیجیے اور سردیوں میں ہونے والی تمام تر بیماریوں سے محفوظ رہیے۔

دہی کے آٹھ چونکا دینے والے فوائد

کیلشیم سے بھرپور ، پروٹین اور پروبائیوٹک سے لیس دہی دودھ سے بنے والی ایک بہترین غذا ہے ۔ اسے ڈیری پراڈکٹس کا سپر ہیرو بھی کہا جاسکتا ہے ۔ کھانے میں اس کا استعمال عام ہے۔ اسے سادہ بھی کھایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ سلاد کی ڈریسنگ اور مشروب کے طور پر بھی دہی کو بہت پسند کیا جاتا ہے ۔ دہی گرمیوں سردیوں ہر موسم میں ہی استعمال کیا جاتا ہے ۔ دہی سے جسم کو بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ ایک مکمل غذا ہے ۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دودھ سے بھی زیادہ فائدے مند ہے ۔دہی صدیوں سے انسانی غذا کا حصہ رہا ہے۔ صحت پردہیکے لاتعداد مثبت اثرات پڑتے ہیں ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں :

نظام انہضام کے لیے مفید

دہی میں موجود ضروری غذائی اجزا آسانی سے انہضامی نالی میں جذب ہو جاتے ہیں ۔ یہ دیگر غذاؤں کی بھی ہضم ہونے میں معاونت کرتاہیں ۔ دہی جسم میں پی ایچ بیلنس برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے ۔ دہی معدے میں تیزابیت نہیں ہونے دیتا۔ اس سے معدے کی کئی تکالیف سے نجات ملتی ہے ۔

ہڈیوں اور دانتوں ک مضبوطی

دہی میں موجود کیلشیم اور فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کو مظبوط کرتا ہے ۔ کیلشیم اور فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کے لیے بے حد ضروری ہے ۔ دہی کا مستقل استعمال آسٹوپروسس اور گٹھیا جیسے مرض کے خطرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔

وزن کم کرنے میں معاون

دہی میں موجود کیلشیم جسم میں کارٹیسول بننے سے روکتا ہے۔ کارٹیسول کی وجہ سے ہائپر ٹینشن اور موٹاپے جیسے مسائل پیش آتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر روزانہ اٹھارا اونس دہی کھایا جائے تو اس سے پیٹ کی چربی گھلتی ہے ۔ جسم میں کیلشیم فیٹس کے خلیات میں سے کارٹیسول کے اخراج کو روکتا ہے جس انسان کا وزن نہیں بڑھتا ۔

دل کے لیے فائدے مند

آج کل امراض قلب میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ دل کی صحت کے لیے دہی کا استعمال بے حد مفید ہے ۔ دہی جسم میں کولیسٹرول کو کنٹرول کرتا ہے ۔ یہ ہائپر ٹٰنشن اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض سے بھی بچاتا ہے ۔

بہترین بیوٹی پراڈکٹ

دہی سے جلد اور بال خوبصورت ہو جاتے ہیں ۔ اس سے جلد اور بالوں پر لگایا بھی جاتا ہے ۔ جلد اور بالوں کو خوبصورت بنانے والے کئی گھریلو ٹوٹکوں میں دہی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔اگر صرف دہی سے ہی چہرے کا مساج کیا جائے تو یہ وائٹننگ بلیچ کا کام کرتا ہے اور اس سے جلد نرم و ملائم ہو جاتی ہے ۔

بالوں کی خشکی سے نجات

دہی بالوں کی صحت اور مضبوطی کے لیے تو مفید ہے ہی، اس سے بالوں کی خشکی بھی دور ہوجاتی ہے ۔ دہی میں موجود لیکٹک ایسڈ خشکی پیدا کرنے والے فنگس کو ختم کرتا ہے ۔ دہی کو مہندی کے ساتھ بالوں پر لگانے سے خشکی سے کافی حد تک چھٹکارا حاصل ہوجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ اسے کنڈشنر کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

دہی دودھ کا متبادل

اکثر لوگوں کو دودھ پینے سے معدے کی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے ۔ کچھ لوگوں کے پیٹ میں گیسز بننے لگتے ہیں اور کچھ لوگوں کا وزن بڑھنے لگتا ہے ۔ البتہ دہی سے آپ کو دودھ کی تمام غذائیت بھی ملتی ہے اور اس سے نظام انہضام بھی ٹھیک رہتا ہے ۔

قو ت مدافعت میں اضافہ

انسان کی د قوت مدافعت اسے تمام تر اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھتی ہے ۔ انسان کی قوت مدافعت جتنیزیادہہو گی وہ اتنا ہی کم بیمار پڑے گا ۔ دہی کئی قسم کی بیماریوں کو ہونے سے روکتا ہے۔ یہ جسم میں ایس حفاظتی تہہ بنا دیتا ہے جو کسی بھی جراثیم کو جسم کو کمزور کرنے یا کسی بھی بیماری کو ہونے سے روکتی ہے ۔
دہی قدرت کی طرف سے ملنے والی ایک دین ہے ۔ اسے لازماً اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں ۔ اس سے آپ کو حیرت انگیزفائدے حاصل ہونگے اور آپ کا وزن بھی نہیں بڑھے گا ۔
دہی قدرت کی طرف سے ملنے والی ایک دین ہے ۔ اسے لازماً اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں ۔ اس سے آپ کو حیرت انگیزفائدے حاصل ہونگے اور آپ کا وزن بھی نہیں بڑھے گا ۔

ہلدی میں پوشیدہ چھ امراض کا علاج

زرد رنگ، ذائقے میں تلخ جڑی بوٹی ہلدی کی افادیت و خصوصیات لاتعداد ہیں۔ یہ عام طور پر گرم اور خشک تصور کی جاتی ہے۔ ایشیائی ممالک میں اس کا استعمال بہت عام ہے۔ البتہ اس کی کرشماتی طاقت کے بارے میں جاننے کے بعد مغرب میں بھی کھانوں میں اس کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ اسے اکثر مرچوں کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے۔
امریکی کیمیکل جرنل کے مطابق ہلدی میں لاتعداد اینٹی آکسیڈنٹ، اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹیریل اوراینٹی فنگل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ سوزش اور جینیاتی بیماریوں کے لیے بھی مفید ہے۔ ہلدی میں بے پناہ غذائیت موجود ہے جس میں غذائی ریشہ، وٹامن سی، وٹامن ای، وٹامن کے، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، پروٹین اور زنک شامل ہیں۔ ان تمام خصوصیات کی وجہ سے اسے کئی طبی امراض سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ہلدی مندرجہ ذیل امرض سے بچاؤ میں مدد کرتی ہے:
کینسر
جی ہاں! ہلدی جسم میں کینسر ہونے سے روکتی ہے بلکہ یہ جسم میں سے کینسر سیل کو بھی ختم کردیتی ہے۔کئی تحقیقات سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ہلدی میں موجود اجزا کئی اقسام کے کینسر سے جسم کو محفوظ رکھتے ہیں۔ہلدی ٹی سیل لیوکیمیاT-cell leukemia، کولن کارسینوماسcolon carcinomas اور بریسٹ کارسینوماسbreast carcinomas جو کہ جسم میں کینسر پھیلاتے ہیں، کے خلاف ایک حفاظتی جلد بنا دیتی ہے۔
گٹھیا
سوزش ختم کرنے کی خصوصیت کے باعث ہلدی کو گٹھیا کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہلدی جسم سے ایسے عناصر کو مٹا دیتی ہے جس سے گٹھیا کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ جن لوگوں کے جوڑوں میں تکلیف رہتی ہو یا سوزش ہو ان کو اپنی غذا میں ہلدی کا استعمال بڑھا دینا چاہیے۔
ذیابطیس
ہلدی کو ذیابطیس کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ جسم میں گلوکوز کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے اور ذیابطیس کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کا اثر بڑھا دیتی ہے۔ہلدی کے مستقل ااستعمال سے ذیابطیس ٹائپ 2ہونے کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ البتہ اگر تیز ادویات کے ساتھ ہلدی کا استعمال کیا جائے تو خون میں شوگر کا لیول ضرورت سے زیادہ کم بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ذیابطیس کے مریض کو معالج کے مشورے سے ہلدی کا استعمال کرنا چاہیے۔
کولیسٹرول
تحقیقات کے مطابق اگر ہلدی محض کھانوں میں مسالحے کے طور پر ہی استعمال کرلی جائے تو اس سے کولیسٹرول لیول کنٹرول میں رہتا ہے۔ جسم میں کولیسٹرول کا تناسب سہی رکھنا جسم کو امراض قلب اور دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
چوٹ یا زخم
یہ ایک قدرتی اینٹی سیپٹک ہے جو کہ جراثیم مارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے اگر کسی کو چوٹ لگ جائے تو اس کی چوٹ پر اکثر ہلدی کا لیپ لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دودھ میں ہلدی ڈال کر پینے سے جسم کی قوت مدافعت بڑھتی ہے۔ ہلدی سے متاثرہ جلد ٹھیک ہوجاتی ہے۔
موٹاپا
ہلدی وزن کم کرنے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ یہ جسم میں سے زائد چربی ختم کرتی ہے۔ وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد اپنے کھانوں میں اگر ایک چمچ ہلدی کا استعمال کریں تو انہیں وزن کم کرنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔
اعصابی بیماریاں
دماغ کی سوزش اور الزائمرز جیسی بیماریوں کے لیے ہلدی مفید ہے۔ ہلدی دماغ کی مجموعی صحت کا خیال رکھتی ہے اور دماغ میں آکسیجن کی فراہمی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
جگر کی بیماریاں
ہلدی جگر کو صاف کرتی ہے۔ اس میں سے فضلہ کو خارج کرتی ہے۔ ہلدی سے جسم میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔ یہ تمام عناصر جگر کی صحت اور تندرستی کے لیے مفید ہیں اور جگر کے بڑھتے ہوئے امراض سے بچاؤ کا طریقہ بھی۔
ہلدی کے ان گنت فوائد اور خصوصیات کے باعث اسے لازمی طور پر اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔ اسے گرم دودھ، کڑی، تلی ہوئی ڈشز اور سالاد میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کافی سے حاصل ہونے والے آٹھ فوائد

ہم میں سے اکثر لوگ اپنی صبح کا آغازیک کپ کافی سے کرتے ہیں ۔ سردیوں میں کافی کا استعمال مزید بڑھ جاتا ہے ۔ اب جب کہ سردیاں قریب ہیں اکثر گھروں کی سودے کی لسٹ میں کافی کا اضافہ ہوچکا ہوگا ۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کافی نہ صرف ذہن کو جگانے بلکہ صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ہے ۔ کافی کے چند حیران کن فوائد مندرجہ ذیل ہیں:
دل کے عارضے کے خطرات کم کرتی ہے
ایسا مانا جاتا ہے کہ کافی دل کو نقصا ن پہنچاتی ہے چونکہ کافی پیتے ہوئے دل کی ڈھڑکن تیز ہونے لگتی ہے ۔ حقیقت میں دن میں تین سے پانچ کپ کافی امراض قلب کے خطرات کافی حد تک کم کردیتی ہے ۔ اور اگر آپ دن میں چار یا پانچ کپ سے زیادہ بھی پیتے ہیں تب بھی آپ کو دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کا اتنا ہی خطرہ ہے جتنا کہ کسی ایسے شخص کو جو کافی بلکل نہیں پیتاہو ۔
دماغ کے خلیات کی نشونما
کافی پینے سے ذہن کے خلیات کو نشو نما ملتی ہے وہ زیاد ہ انرجی پیدا کرتے ہیں جس سے ذہن صحت مند اور توانا رہتا ہے ۔ کافی سے ذہن کو پہنچنے والے چندفوائد میں یاداشت بہتر ہونا اور ردعمل میں تیزی آنا شامل ہیں ۔ کبھی امتحان کے لیے جانے سے پہلے کافی کا ایک کپ پی کر دیکھیے ۔ یہ آپ کو یقیناًکافی مدد ملے گی۔
نیند کی کمی کے اثرات کو دورکرتی ہے
کسی پریشانی یا مشکل میں سب سے پہلے آپ کی نیند ہی متاثر ہوتی ہے ۔ اگر کئی دن تک نیند ٹھیک نہ آئے تو طبعیت بھاری اور بوجھل محسوس ہونے لگتی ہے ۔ کافی سے نیند نہ آنے کے باعث ہونے والی سستی دور ہوجاتی ہے ۔ یہ سر کا درد دور کرنے کے لیے بھی مفید ہے ۔
دوڑنے کی رفتار کو بڑھاتا ہے
اگر آپ ورزش کے شوقین ہیں اور دوڑ لگانا آپ کے روز کا معمول ہے تو آپ کے لیے کافی بے حد فائدے مند ثابت ہوسکتی ہے ۔ کثرت سے پہلے ایک کپ کافی پینیسے آپ کی انرجی میں اضافہ ووتا ہے اور آپ کم وقت میں زیادہ ورزش کر سکتے ہیں۔ کافی سے آپ کی دوڑنے کی رفتار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ذیابیطس ٹائپ ٹو کے خطرات کم کرتی ہے
ہمارے شکر کے حد سے زیادہ استعمال اور ذہنی تناؤ کے باعث ذیابیطس کے مرض میں پریشان کن حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ کافی پینے سے خون میں شوگر لیول ٹھیک رہتا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ دن میں ایک بار کافی پیتے ہیں ان کے ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات 7فی صد تک کم ہوجاتے ہیں ۔
ایلزائمرز اور پارکنسنز جیسی بیماریوں سے ذہن کی حفاظت
کافی نہ صرف ذہن کو وقتی فائدہ پہنچاتی ہے بلکہ اس کے ذہن پر کئی دیر پا فوائد بھی مرتب ہوتے ہیں ۔ کافی کے مستقل ااستعمال سے انسانی ذہن کئی قسم کی بیماریوں جیسے الزائمرز، پارکنسنسز اور ڈیمینشیا سے محفوظ رہتا ہے ۔
چہرے کی چمک اور رونق بڑھاتا ہے
کافی سے بناہوا اسکرب جلد کو ایکسفولیٹ کرتا ہے یعنی جد کی خراب پرت کو نکال دیتا ہے ۔ تازہ یا استعمال شدہ پسی ہوئی کافی وک ناریل یا زیتون کے تیل کے ساتھ ملالیں ۔ اس پیسٹ کو چہرے پ چلینس یا اسکرب کے طورپر استعمال کریں ۔
بالوں کو چمکدار بنائے
کافی کے استعمال سے بال سیاہ اور چمکدار ہو جاتے ہیں ۔ اسے مہندی میں ملاکربھی بالوں میں لگایا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ محض کافی کو پانی کے ساتھ پسٹ بنا کر نہانے سے پہلے بالوں اور جڑوں پر لگانے سے بالوں کا رنگ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ مظبوط بھی ہوتے ہیں۔ کافی کے استعمال سے بالوں کاجھڑنا بھی کم ہو جاتا ہے ۔
کافی کے اتنے سارے فوائد اور خصوصیات جاننے کے بعد ایک کپ تو بنتا ہے !

اچھی غذائیں،صحت اور خوب صورتی کی ضامن

چہرہ اور بال جہاں ہماری خوب صورتی کے ضامن ہیں وہیں ہماری صحت کا تعیّن بھی کرتے ہیں۔ جب ہم اندرونی طوپر صحتمند اور طاقت ور ہوں گے تو یقیناًہمارا چہرہ بھی کھلا کھلا اور شاداب ہوگا۔
آج کل کی خواتین ہزاروں روپے اپنے میک اپ اور فیشل پر برباد کردیتی ہیں کہ کسی طرح چہرہ خوب صورت نظر آئے۔ مگر وہ یہ بات نہیں جانتیں کہ یہ چیزیں پائیدار نہیں صرف اور صرف وقتی ہیں۔بعض خواتین چہرے پر موجود جھریاں اور مرجھائے ہوئے چہرے کے حوالے سے فکرمند دکھائی دیتی ہیں اور کچھ خواتین حتیٰ کہ مرد حضرات بھی نت نئی مہنگی مہنگی کریمیں خود کو گورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس کا نتیجہ صفر ہی نکلتا ہے۔ اگر وہ اتنا روپیہ اپنی خوراک پر اور اتنا وقت غذائیت اور صحت بخش مشروبات استعمال کرنے میں صرف کریں تو یقیناًبہت اچھے نتائج حاصل ہوں گے۔
رنگ گورا ہو یا سانولا جب چہرے پر تازگی اور رونق ہی نہیں ہوگی تو نہ ہی اس میں کوئی کشش ہوگی نہ ہی وہ جاذبِ نظر لگے گا۔ذرا سا کام کِیا اور تھکاوٹ کے چہرے سے ظاہر ہوگئی۔تھوڑی سی ٹینشن ملی اور چہرہ پیلا پڑگیا۔ کیاہے یہ سب؟ہماری اندرونی اور جسمانی کمزوری ہی تو ہے۔ پہلے ٹین ایجرلڑکیوں کو کسی میک اپ، کسی فیشل کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ کیونکہ وہ ایسی غذائیں استعمال کرتی تھیں کہ جسمانی طاقت ان کے چہر ے سے نمایاں ہوتی تھی۔ کھلی کھلی رنگت ،پُررونق اور شاداب چہرہ، مگر اس کے برعکس آج کل کی ٹین ایجر لڑکیاں اپنی اسکن کی وجہ سے اپنی عمر سے بڑی نظر آتی ہیں۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے۔ جو چیزیں وہ اپنی غذا میں استعمال کرتی ہیں اس سے چہرہ مرجھایا ہوا اور بد رونق نظر آتا ہے۔ لہٰذا اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم خوب صورت اور شاداب نظر آئیں تو ہزاروں روپے میک اپ اور کریموں پر برباد کرنے سے پہلے ضرور سوچ لیں کہ سب چیزیں جز وقتی ہیں۔ہماری صحت اچھی ہوگی تو ہمارا چہرہ ویسی ہی شاداب اور خوب صورت نظر آئے گا اور یہ خوب صورتی یقیناًپائیدا ہوگی۔
خواتین کو ویسے ہی اپنی غذا کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ان کی فیملی کو سب سے زیادہ توقعات انھی سے ہوتی ہیں، سارا دن نوکرانیوں کی طرح کام کرنے کے باوجود ان کے شوہر یہی چاہتے ہیں کہ جب وہ شام کوکام سے گھر واپس لوٹیں تو بے شک وہ خود تھکے ہوئے دکھائی دیں مگر ان کی بیگمات ہشاش بشاش اور کھلے کھلے چہرے کے ساتھ ان کا استقبال کریں۔سو مجبوراً بے چاری خواتین سارا دن تھکنے کے بعد فوری رنگ گورا کرنے والی اور لپ اسٹک لگا کر چہرے پر مسکراہٹ سجائے شوہر کا استقبال کرتی ہیں تاکہ وہ خوب صورت نظر آئیں۔ اگر اٹھارہ گھنٹے کام کرنے کے دوران وہ صرف آدھا گھنٹہ بھی اپنے لیے نکال لیں تو یقیناًصورت حال مختلف ہوگی۔
کھیرا ایک سستی اور بہت مفید غذاہے۔ چہرے کی جلد نکھارنے کے لیے نہ صرف یہ کہ اسے سلاد کے طور پر کھائیں ، بلکہ اس کا گودا مسل کر چہرے پر لگائیں۔ اسی طرح ٹماٹر کا استعمال بھی ہمارے جسم و چہرے کے لیے ازحد فائدہ مند ہے۔ آج کل کیلے وافر مقدار اور مناسب قیمت میں بازار میں موجود ہیں جو جسمانی کمزوری دور کرنے کے ساتھ ساتھ اسکن کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہیں، جو لڑکیاں اپنے چہرے پرموجود دانوں کی وجہ سے پریشان ہیں انھیں چاہیے کہ وہ کیلے وافر مقدار میں کھائیں۔ بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ کیلا مٹاپے کا سبب بنتا ہے لیکن یہ بات درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا استعمال جسم میں کولیسٹرول بڑھنے نہیں دیتا۔اسی طرح گاجر کا استعمال نہ صرف یہ کہ ہمارے جسم میں نیا خون بناتا ہے بلکہ چہرے کو بھی شاداب رکھتا ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی غذا میں کچی سبزیوں کا استعمال ضرور رکھیں، تاکہ جسم میں وٹامن اور کیلشیم کی کمی دور ہوسکے اور ہم اندرونی طور پر طاقتور ہو سکیں ۔


کیلشم اوروٹامنز کی کمی کی طرح زیادتی بھی صحت کے لیے نقصان دہ -

وٹامنز اور کیلشیم کی سپلیمنٹس ہم میں سے اکثر لوگ روز لیتے ہونگے۔ ان ادویات کے استعمال کا مشورہ معالج جسم میں ضروری غذائیت کی کمی کو دور کرنے کے لیے دیتے ہیں ۔ یہ سپلیمنٹس صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں ۔ البتہ ان کا زیادہ استعمال صحت پر مضر اثرات بھی مرتب کر سکتا ہے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ وٹامنز اور کیلشیم سپلیمنٹس کا ضرورت سے زیادہ استعمال آپ کے لیے بہتر ہی ہو۔
کیلشیم
کیوں ضروری ہے؟
کیلشیم ہڈیوں کی مظبوطی اور نشونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ کئی دہائیوں سے ماہرین آسٹیوپروسس یعنی ہڈیوں کے بھربھرا کردینے والی بیماری سے بچاؤ کے لیے کیلشیم سپلیمنٹس تجویز کرتے آرہے ہیں ۔ ہڈیوں کو پتلا کردینے والا یہ مرض فریکچرز کا سبب بنتا ہے ۔ دراز عمر افراداور خواتین کو اس مرض میں مبتلا ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں ۔ اگر شروع سے ہی کیلثیم کی سہی مقدار ہڈیوں کو مل جائے تو عمر بڑھنے پر انسان اس بیماری سے محفوظ رہتا ہے ۔
زیادہ استعمال کیسے نقصان دہ ہے؟
کئی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ جو مرد اورعورتیں ایک دن میں ایک ہزار سے بارہ ہزار ملی گرامز سے زیادہ کیلشیم لیتے ہیں ان کے لیے دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہو تو کیلشیم ہڈیوں میں جذب نہیں ہو پاتا ۔ جو کیلشیم جذب نہیں ہوتا وہ خون کی نالیوں میں جاکر پھنس جاتا ہے جس کے باعث دل کے دورے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ضرورت سے زیادہ کیلشیم لینے سے پٹھوں میں درد، پیٹ میں درد اور گردوں میں پتھری جیسے مسائل بھی پیش آسکتے ہیں ۔
اس سے بچنے کے لیے کیا کریں؟
کیلشیم لینے کے لیے سپلیمنٹس سے زیادہ کیلشیم سے بھرپور غذاؤں پر انحصار کریں ۔ ادویات سے ملنے والے کیلشیم کے مقابلے میں قدرتی غذاؤں میں موجود کیلشیم زیادہ آسانی سے ہڈیوں میں جذ ب ہوجاتا ہے ۔ کیلشیم حاصل کرنے کے لیے بہترین غذا دہی ہے ۔ ایک پیالے دہی میں تقریباً450 ملی گرام کیلشیم ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی دہی میں وٹامن ڈی اور پروٹین بھی موجود ہوتاہے جو کہ کیلشیم جذب کرنے کے لیے ضروری ہیں ۔
ہرے پتے والی سبزیوں، سیم، نارنگی کے جوس، بادم اور تل کے بیجوں میں بھی وافر مقدار میں کیلشیم موجود ہوتا ہے ۔
وٹامن ڈی
کیوں ضروری ہے؟
وٹامن ڈی کیلشیم کے ساتھ مل کر ہڈیوں کو مضبوط بناتاہے ۔ اس کے علاوہ وٹامن ڈی ایستھما اور ڈپریشن جیسے امراض سے بچاؤ میں بھی مفید ہے ۔ وٹامن ڈی کے استعمال سے قوت مدافعت بہتر ہوتی ہے ۔
جسم سورج کی کرنوں سے وٹامن ڈی حاصل کرتا ہے ۔ آج کے دور میں لوگ دھوپ میں نکلنا پسند نہیں کرتے اس لیے اکثر لوگ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے معالج وٹامن سپلیمنٹس کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں ۔ اگر جسم کو ضرورت کے مطابق وٹامن ڈی ملتا رہے تو انسان بیماریوں سے دور رہتا ہے اور اس کے علاوہ اس کی مجموعی صحت پر بھی مثبتاثرات مرتبہوتے ہیں ۔
زیادہ استعمال کیسے نقصان دہ ہے؟
وٹامن ڈی کی خون میں 100ng/ml سے زیادہ مقدار صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے ۔ وٹامن ڈی کی زیادتی کے باعث ہڈیاں ضرورت سے زیادہ کیلشیم جذب کرلیتی ہیں جس سے پٹھوں میں درد ، موڈ میں غیر معمولی تبدیلی اور معدے میں تکلیف جیسے مسائل پیش آسکتے ہیں ۔ کیلشیم کی طرح وٹامن ڈی کے زیادہ استعمال سے بھی دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔
اس سے بچنے کے لیے کیا کریں؟
سب سے پہلے جسم میں وٹامن ڈی کا لیول معلوم کرنے لیے ڈاکٹر کے مشورے سے ٹیسٹ کرائیں ۔ اگر خون میں وٹامن ڈی کی مقدار زیادہ ہو تو عام طور پر ڈاکٹر اس کے متبادل کے طور پر وٹامن ڈی تھری کی سپلیمنٹس کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں ۔ اگر آپ کے جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار زیادہ ہے تو کم از کم تین مہینے تک علاج جاری رکھیں ۔ وٹامن ڈی کا تناسب نارمل ہونے میں تقریباًچھ سے بارہ مہینے لگ جاتے ہیں ۔
وٹامن اے
کیوں ضروری ہے؟
وٹامن اے کا استعمال آنکھوں کی بینائی کے لیے فائدے مند ہو تا ہے ۔ اس کے علاوہ اس سے جلد اور بال بھی اچھے ہوتے ہیں ۔ وٹامن اے بھی قوت مدافعت کو مضبوط کرتا ہے ۔ جن لوگوں میں وٹامن اے کی کمی ہوتی ہے انہیں رات کے وقت دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے ۔ اس لے علاوہ ان کی جلد خشک ہو جاتی ہے اور بال بے جان لگنے لگتے ہیں ۔ وٹامن اے کی کمی کے شکار لوگ سانس کی نالی کے انفیکشن سے بھی دوچارہو سکتے ہیں ۔
زیادہ استعمال کیسے نقصان دہ ہے؟
چربی حل کرلینے والا یہ وٹامن جسم میں فاسد مادہ بھی جمع کر سکتا ہے ۔ وٹامن اے کی جسم میں زیادتی سے زیادہ چربی گھلنے لگتی ہے جوکہ جسم سے باہر نہیں نکل پاتی ۔ وٹامن اے کی زیادتی سے سر میں درد اور جلد پر نشانات پڑنے لگتے ہیں ۔ اس کے علاوہ وٹامن اے کی زیادتی جسم سے وٹامن ڈی کو کم کرنے لگتی ہے جس سے آسٹیوپروسس ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔
جو لوگ وٹامن اے کے لیے ایک سے زیادہ اقسام کی سپلیمنٹس لے رہے ہوتے ہیں وہ اکثر وٹامن اے کی زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جسم کو ایک دن میں 5000IUوٹامن اے کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں قدرتی غذاؤں اور سپلیمنٹس سے ملا کر حاصل کرنی ہوتی ہے ۔
اس سے بچنے کے لیے کیا کریں؟
وٹامن اے حاصل کرنے کے لیے نارنجی رنگ کی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کریں جن میں گاجر، میٹھے آلو اور پپیتا شامل ہے۔ ہری سبزیاں اور انڈے کی زردی بھی وٹامن اے کے حصول کا ایک اچھا ذریعہ ہیں ۔
مختصراًیہ کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ غذائیت قدرتی غذاؤں سے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اگر آپ سپلیمنٹس کااستعمال کرتے ہیں تو معالج سے باقائدگی سے اپنا چیک اپ کراتے رہیں اور جسم میں غذائیت کے سہی تناسب کے بارے میں باخبر رہیں ۔

کھانا صحت بخش اور ذائقہ دار بنانے کے7اصول

صحت مند زندگی کے لیے صحت مندخوراک بے حد اہم ہے۔ صحت مند خوراک ہونے سے مراد ایسی غذا کا استعمال ہے جس میں تمام تر غذائیت حاصل ہواور جسے صحت کے صولوں کے مطابق تیار کیا گیا ہو۔ پیکٹ والے مصالحے ، پریشر ککراور مائیکرووویوز نے کھانا پکانا آسان تو بنا دیا ہے لیکن کیا ہمارا طریقہ کار صحت کے بنیادی اصولوں کے عین مطابق ہے یا نہیں یہ جاننا بھی ضروری ہے۔
صحت بخش کھانے پکانے کے لیے آپ کا ایک ماہر کک ہونا لازمی نہیں ۔ محض چند باتوں کا خیال رکھ کر آپ خود کو اور اپنے گھر والوں کو بیماریوں اور بیماری پھیلانے والے جراثیم سے محفوظ رکھ سکتی ہیں ۔ صحت بخش کھانوں کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ان میں ذائقہ نام کی چیز نہ ہو ۔ بلکہ یہ ہی اصل چیلنج ہے کہ کھانے کو مزیدار بنانے کے ساتھ ساتھ اس میں موجود کیلریز اور غذائیت کا حساب بھی رکھا جائے ۔
چند آسان اصولوں اور ترکیبوں کو اپناکر آپ کم وقت میں ذائقہ دار ڈشیں پکا سکتی ہیں جنھیں کھاکر صحت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے :
کھانا بھاپ میں پکائیں
اس سے مراد یہ ہے کہ کھانے کی کسی بھی چیز کو تیز آنچ پر بھوننے کے بجائے کوشش کریں کہ ہلکی آنچ پر ڈھکن ڈھک کر پکائیں ۔ اس سے کھانے کی غذائیت بھی برقرار رہے گی اور خوشبو اور شکل بھی اچھی آئے گی ۔ بازار میں اسٹیمرز بھی آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ ان میں کھانا پکانے میں آپ کو زائد چربی یا تیل کا استعمال نہیں کم کرنا پڑتا ۔خصوصاًمچھلی، سبزیوں جیسے کہ پھلیوںیا مرغی کو اس طریقے سے پکایا جائے تو کھانا کی غذائیت و افادیت برقرار رہتی ہے ۔
تیل محتاط ہو کر استعمال کریں
انسان کے جسم کو دیگر غذائیت کی طرح فیٹس کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ چند ڈشوں میں تیل ڈالنا ضروری ہوتا ہے ۔ کوشش کریں کہ مکھن یا گھی کی جگہ زیتون کے تیل کا استعمال کریں ۔ کھانے دیگچی یا پین کی جگہ اگر کڑہائی میں پکائے جائیں تو تیل کم استعمال ہوگا ۔کم تیل میں پکاتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کھانا جلے نہیں ۔
گوشت کم پکائیں
گوشت سے جسم کو پروٹین حاصل ہوتا ہے البتہ گوشت کا زیادہ استعمال چربی بھی بڑھاتا ہے ۔ اس لیے کوشش کریں کہ گوشت کو کسی سبزی کے ساتھ پکائیں ۔ گوشت کم مقدار میں پکائیں ۔ مگوشت میں مچھلی کا استعمال بڑھا دیں چونکہ یہ صحت کے لیے زیادہ مفید ہے۔
نمک کم استعمال کریں
چاہے گھر میں کوئی ہائی بلڈ پریشن کا مریض ہو یا نہ ہو کھانے میں نمک کم ہی ڈالیں ۔ ایک امریکی تحقیق کے مطابق ایک دن میں 2300ملی گرام یعنی تقریباًایک چھوٹے چمچ سے زیادہ نمک استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔ کھانے میں نمک زیادہ ڈالنے کے بجائے مرچ، جڑی بوٹیوں اور قدرتی رسوں سے ذائقہ بڑھائیں جیسے کہ لیمبو کا عرق، ہری مرچیں اور ہرا دھنیا وغیرہ ۔
ہرچیز ناپ کرڈالیں
کسی بھی مسالحے یا اجزا کی زیادتی یاکمی ڈش کو پوری طرح برباد کرسکتی ہے ۔ کھانے میں اجزا اپنی سہولت اور آسانی کے مطابق نہیں بلکہ ڈش کی ضرورت اور صحت کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے شامل کریں ۔
کچن میں صفائی کا خاص خیال رکھیں
چولہے، سبیزیاں کاٹنے کی جگہ اور برتن کو صاف رکھیں۔ کھانے کی چیزوں کو بھی اچھی طرح دھو کر استعمال کریں ۔ پلاسٹک کی تھیلیوں کے بجائے کھانے کی چیزیں کاغذ کے بیگ میں اسٹور کریں ۔ کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھک کر فریج میں رکھیں۔ اس طرح فرج میں بو بھی نہیں آئے گی اور کھانے کی چیزیں بھی تازہ رہیں گی ۔
کھانے کو زیادہ دیر تک نہ پکائیں
ہمیں ایسا لگتا ہے کہ کھانا جتنی دیر تک بھنے گا وہ اتنا ہی ذائقہ دار ہوگا ۔ یہ بات درست نہیں ۔ ہر ڈش کو پکانے کے لیے ایک خاص وقت درکار ہوتا ہے۔ کھانے کو زیادہ پکانے سے اس کا اپنا ذائقہ ختم ہوجاتا ہے ۔ دیگر اجزا ڈالنے سے پہلے تیل کو اتنا گرم نہ کریں کہ اس میں سے دھواں نکلنے لگے بلکہ ہلکا سا گرم کرکے ہی اس میں مسالحہ اور دیگر اجزا شامل کردیں ۔
کھانا پکانا محض ایک ذمہ دری نہیں بلکہ ایک ہنر ہے جسے سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ان آسان ترکیبوں پر عمل کرکے آپ نہ صرف ذائقہ دارا ور صحت بخش کھانا پکا سکتی ہیں بلکہ آپ کو اس کام میں مزہ بھی آنے لگے گا ۔